صحیح مسلم حدیث ۴۹۱۸ - اللہ سے عہد پورا کرنا

اللہ سے عہد پورا کرنا: انس بن نضر رضی اللہ عنہ کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۱۸

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : " عَمِّيَ الَّذِي سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا ، قَالَ : فَشَقَّ عَلَيْهِ ، قَالَ : أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : غُيِّبْتُ عَنْهُ وَإِنْ أَرَانِيَ اللَّهُ مَشْهَدًا فِيمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَرَانِي اللَّهُ مَا أَصْنَعُ ، قَالَ : فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا ، قَالَ : فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ ، قَالَ : فَاسْتَقْبَلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ : يَا أَبَا عَمْرٍ وَأَيْنَ ؟ ، فَقَالَ : وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهُ دُونَ أُحُدٍ ، قَالَ : فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ ، قَالَ : فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ ، قَالَ : فَقَالَتْ أُخْتُهُ عَمَّتِيَ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ : " فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلا سورة الأحزاب آية 23 ، قَالَ : فَكَانُوا يُرَوْنَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ " .

انس روایت:

میرے چچا جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا ہے (یعنی ان کا نام بھی انس تھا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہوئے یہ امر ان پر بہت دشوار گزرا اور انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی لڑائی میں غائب رہا اب اگر اللہ تعالیٰ دوسری کوئی لڑائی میں مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کرے گا تو اللہ تعالیٰ دیکھے گا میں کیا کرتا ہوں اور ڈرے اس کے سوا اور کچھ کہنے سے (یعنی اور کچھ دعویٰ کرنے سے کہ میں ایسا کروں گا ویسا کروں گا کیونکہ شاید نہ ہو سکے اور جھوٹے ہوں) پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے احد کی لڑائی میں تو سعد بن معاذ ان کے سامنے آئے اور انہوں نے کہا: اے ابوعمرو (یہ کنیت تھی انس بن النضر بن ضمضم انصاری کی جو چچا تھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے) کہاں جاتے ہو؟ انہوں نے کہا: افسوس جنت کی ہوا احد کی طرف سے مجھے آ رہی ہے۔انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر وہ لڑے کافروں سے یہاں تک کہ شہید ہوئے (لڑائی کے بعد دیکھا) تو ان کے بدن پر اسی سے زائد زخم تھے تلوار، برچھی اور تیر کے، ان کی بہن یعنی میری پھوپھی ربیع بنت نضر نے کہا: میں نے اپنے بھائی کو نہیں پہچانا مگر ان کی پوریں انگلیوں کی دیکھ کر (کیونکہ سارا بدن جسم زخموں سے چور چور ہو گیا تھااور یہ آیت «رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً» (الأحزاب: ۲۳) (یعنی وہ مرد جنہوں نے پورا کیا اپنا اقرار اللہ سے۔۔۔ بعض تو اپنا کام کر چکے اور بعض انتظار کر رہے ہیںصحابہ کہتے تھے: ان کے اور ان کے ساتھیوں کے باب میں اتری۔

صحیح مسلم حدیث ۴۹۱۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ اپنے چچا انس بن نضر رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ وہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تو انہیں بہت دکھ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اللہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی اور موقع میں شریک کیا تو اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ پھر وہ احد میں شریک ہوئے۔ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ملے تو کہا کہ مجھے احد کی طرف سے جنت کی خوشبو آ رہی ہے۔ پھر وہ لڑے یہاں تک کہ شہید ہوئے۔ ان کے جسم پر اسی سے زیادہ زخم پائے گئے، یہاں تک کہ ان کی بہن نے انہیں انگلیوں کے پوروں سے پہچانا۔ صحابہ سمجھتے تھے کہ آیت رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ حدیث کا پیغام وعدے کی سچائی، وفا اور عمل ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچائی کے ساتھ نبھانا چاہیے۔
  • انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے دعوے کے بجائے عمل سے اپنی بات دکھائی۔
  • احد میں ان کی قربانی بہت نمایاں تھی۔
  • صحابہ اس آیت کو ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں سمجھتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں