صحیح مسلم حدیث ۴۹۳۰ - شہیدوں کا درجہ اور سچی طلب

شہادت مانگنے کی حدیث: سچائی سے مانگو، اللہ درجہ دیتا ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۳۰

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ حَرْمَلَةُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ ، وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو الطَّاهِرِ فِي حَدِيثِهِ بِصِدْقٍ .

‏‏‏‏ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچائی سے شہادت مانگے اللہ سے، اللہ اس کو شہیدوں کا درجہ دے گا اگرچہ وہ اپنے بچھونے پر مرے۔“ اور ابوطاہر نے اپنی حدیث میں «بِصِدْقٍ» ذکر نہیں کیا۔

صحیح مسلم حدیث ۴۹۳۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ سے سچائی کے ساتھ شہادت مانگے، اللہ اسے شہیدوں کے درجے تک پہنچا دے گا، اگرچہ وہ اپنے بستر پر مرے۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ ابوطاہر نے اپنی حدیث میں بصِدق کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام سچی طلب اور نیت ہے۔ شہادت کی دعا صرف ظاہری الفاظ نہیں، بلکہ دل کی سچائی سے جڑی ہوئی ہے۔ متن میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر آدمی کا ظاہر ایک جیسا ہوگا، بلکہ درجے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے مسلمان کو اللہ سے خیر مانگتے وقت دل کو سچا رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ سے شہادت مانگنے میں سچائی اہم ہے۔
  • حدیث میں بستر پر موت کے باوجود شہیدوں کے درجے کا ذکر ہے۔
  • دعا اور نیت دونوں دل کی حالت سے جڑے ہیں۔
  • اللہ کے ہاں سچی طلب کی قدر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں