صحیح مسلم حدیث ۴۹۳۲ - بیماری کے عذر سے شریک اجر
عذر اور نیت کی حدیث: بیمار لوگ بھی اجر میں شریک
صحیح مسلم : ۴۹۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۳۲
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَرِجَالًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ حَبَسَهُمُ الْمَرَضُ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک لڑائی میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ میں چند لوگ ہیں جب تم چلتے ہو یا کسی وادی کو طے کرتے ہو تو وہ تمہارے ساتھ ہیں (یعنی ان کو وہی ثواب ہوتا ہے جو تم کو ہوتا ہے) وہ بیماری کی وجہ سے تمہارے ساتھ نہ آ سکے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۹۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ میں کچھ لوگ ہیں، تم جب بھی چلتے ہو یا کسی وادی کو طے کرتے ہو، وہ تمہارے ساتھ ہیں۔ پھر وجہ بتائی کہ انہیں بیماری نے روک رکھا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع عذر اور نیت ہے۔ یہاں وہ لوگ خود سفر میں شریک نہ ہو سکے، مگر بیماری کی وجہ سے رک گئے۔ متن سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اگر سچی نیت ہو اور شرعی عذر روک دے تو اللہ کے ہاں اجر کی امید ہے۔ یہ حدیث بیمار یا مجبور آدمی کے لیے تسلی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیماری جیسے عذر کی وجہ سے رک جانا محرومی نہیں بنتا۔
- نیت درست ہو تو عذر والے بھی اجر میں شریک ہو سکتے ہیں۔
- حدیث میں مدینہ کے ان لوگوں کا ذکر ہے جو بیماری سے رک گئے تھے۔
- اللہ کے ہاں دل کی حالت اور مجبوری دونوں کا اعتبار ہے۔
