صحیح مسلم حدیث ۴۹۳۳ - اجر میں شریک ہونے کی خوشخبری
اجر میں شریک ہونے کی حدیث: بیماری نے روکا مگر نیت باقی رہی
صحیح مسلم : ۴۹۳۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۳۳
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كُلُّهُمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ ، إِلَّا شَرِكُوكُمْ فِي الْأَجْرِ .
اعمش روایت:
اعمش رحمہ اللہ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت مروی ہے سوائے اس کے کہ وکیع کی حدیث میں ہے کہ ”وہ اجر و ثواب میں تمہارے شریک ہوئے ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۹۳۳ کا خلاصہ
اس روایت میں اعمش رحمہ اللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث مروی ہے، مگر وکیع کی روایت میں یہ الفاظ آئے کہ وہ اجر و ثواب میں تمہارے شریک ہوئے ہیں۔ اس کا تعلق اسی مضمون سے ہے کہ کچھ لوگ بیماری کی وجہ سے سفر یا غزوہ میں ساتھ نہ آ سکے، لیکن وہ اجر میں شریک ہیں۔ اس حدیث کا بنیادی پیغام عذر اور نیت ہے۔ انسان کبھی کسی اچھے کام کا ارادہ رکھتا ہے مگر بیماری، کمزوری یا واقعی مجبوری اسے روک دیتی ہے۔ اس روایت میں ان لوگوں کے لیے تسلی ہے کہ اللہ نیت کو ضائع نہیں کرتا۔ البتہ بات اسی حد تک ہے جو حدیث میں آئی ہے: بیماری نے انہیں روکا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیماری کے عذر سے رکنے والوں کے لیے اجر میں شرکت کا ذکر ہے۔
- نیت اور عذر دونوں اس روایت میں اہم ہیں۔
- حدیث میں خاص طور پر بیماری کو رکاوٹ بتایا گیا ہے۔
- نیک ارادہ رکھنے والا مایوس نہ ہو، اللہ نیت جانتا ہے۔
