صحیح مسلم حدیث ۴۹۳۷ - ابنۃ ملحان کے پاس نبی کریم صلى الله عليه وسلم

ام حرام رضی اللہ عنہا کی روایت: نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا آرام فرمانا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۳۷

وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَر ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَةَ مِلْحَانَ خَالَةَ أَنَسٍ ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عِنْدَهَا ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَي بْنِ حَبَّانَ .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی خالہ (سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا) بنت ملحان کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس سر رکھ کر (سو گئے) باقی حدیث مبارکہ گزر چکی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۹۳۷ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابنۃ ملحان، یعنی انس رضی اللہ عنہ کی خالہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس سر رکھ کر آرام فرمایا۔ پھر راوی نے حدیث کو اسی معنی کے ساتھ بیان کیا جو پہلے گزر چکا ہے۔ اس کا تعلق اسی واقعے سے ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے کچھ لوگوں کو سمندر پر سوار دیکھا اور ام حرام رضی اللہ عنہا نے ان میں شامل ہونے کی دعا چاہی۔ اس روایت میں تفصیل کم ہے، اس لیے اسے اصل واقعے کے معنی کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔ مرکزی موضوع بحری جہاد اور نیک ارادہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت ام حرام رضی اللہ عنہا کے واقعے کی تائید کرتی ہے۔
  • حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کے پاس آنے کا ذکر ہے۔
  • روایت کا مضمون پچھلی بحری جہاد والی حدیث کے مطابق ہے۔
  • نیک کام میں شامل ہونے کی طلب اس واقعے کا اہم پہلو ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں