صحیح مسلم حدیث ۴۹۳۶ - بحر اخضر پر سوار امت کے لوگ
بحر اخضر والی حدیث: ام حرام رضی اللہ عنہا کا واقعہ
صحیح مسلم : ۴۹۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۳۶
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، وَيَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ أَنَّهَا ، قَالَتْ : نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَتَبَسَّمُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَضْحَكَكَ ؟ قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ الْأَخْضَرِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ .
ام حرام بنت ملحان روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مجھ سے قریب سو گئے، پھر جاگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنستے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنستے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے چند لوگ میرے سامنے لائے گئے جو سوار ہوتے تھے اس بحر اخضر پر۔“ پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری۔
صحیح مسلم حدیث ۴۹۳۶ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی خالہ سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان کے قریب سو گئے۔ جب جاگے تو مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ، آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اس بحر اخضر کی پشت پر سوار ہو رہے تھے۔ پھر روایت میں وہی مضمون بیان ہوا جو پہلے گزرا۔ اس حدیث کا اصل موضوع بحری سفر اور اللہ کی راہ میں جانے والے لوگوں کا ذکر ہے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا کی نیک خواہش بھی اسی مضمون سے جڑی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں بحر اخضر پر سوار امت کے لوگوں کا ذکر ہے۔
- ام حرام رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وجہ پوچھی۔
- یہ روایت پچھلی روایت کے اسی مضمون کو بیان کرتی ہے۔
- نیک لوگوں کے ساتھ شامل ہونے کی خواہش قابل قدر ہے۔
