صحیح مسلم حدیث ۴۹۴۱ - شہید کون ہے؟

شہید کون ہے؟ شہادت کی جامع حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۴۱

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ ؟ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، قَالَ : " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ " ، قَالُوا : فَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، وَمَنْ مَاتَ فِي الْبَطْنِ فَهُوَ شَهِيدٌ " ، قَالَ ابْنُ مِقْسَمٍ ٍ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِيكَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ ، قَالَ : وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم شہید کس کو سمجھتے ہو۔“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! جو اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو میری امت میں بہت کم شہید ہوں گے۔“ لوگوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! پھر شہید کون کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید ہے، جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں مر جائے (مثلاً حج یا جہاد کو جاتے ہوئے) وہ بھی شہید ہے، طاعون (وبا) میں مرے وہ بھی شہید ہے، جو پیٹ کے عارضے سے مرے وہ بھی شہید ہے، جو ڈوب کر مرے وہ بھی شہید ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۹۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تم شہید کس کو سمجھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ جو اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تو میری امت میں شہید بہت کم ہوں گے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی کئی صورتیں بیان فرمائیں۔ اللہ کی راہ میں مارا جانا، اللہ کی راہ میں وفات پانا، طاعون میں مرنا، پیٹ کے عارضے سے مرنا اور ڈوب کر مرنا بھی اس حدیث میں شہادت کے ضمن میں آیا ہے۔ شہید کون ہے، شہادت کی حدیث، طاعون میں موت اور ڈوب کر مرنے والے کی فضیلت جیسے موضوعات اسی روایت سے سمجھ آتے ہیں، مگر بات وہیں تک رکھی جائے جو حدیث میں بیان ہوئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شہادت صرف میدان میں مارے جانے تک محدود نہیں، حدیث میں دوسری صورتیں بھی بیان ہوئی ہیں۔
  • اللہ کی راہ میں نکل کر وفات پانا بھی اس روایت میں شہادت کے طور پر آیا ہے۔
  • طاعون، پیٹ کے عارضے اور ڈوبنے سے وفات پانے والے مسلمان کے لیے حدیث میں شہادت کا ذکر ہے۔
  • دینی بات سمجھنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت اصل معیار ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں