صحیح مسلم حدیث ۴۹۴۰ - راستے سے کانٹا ہٹانا اور شہداء کی اقسام
راستے سے کانٹا ہٹانے کی حدیث اور شہیدوں کی پانچ قسمیں
صحیح مسلم : ۴۹۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۴۰
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ ، وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ " ، وَقَالَ : " الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ ، وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِقُ ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ ، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص جا رہا تھا، اس نے راہ میں ایک کانٹے کی ڈالی دیکھی، وہ ہٹا دی، اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ دیا اور اس کو بخش دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید پانچ ہیں جو طاعون (وبا یعنی جو مرض عام ہو جائے اس زمانے میں طاعون قے دست سے ہوتا ہے) سے مرے، جو پیٹ کے عارضے سے مرے (جیسے اسہال یا پیچش یا استسقا سے) جو پانی میں ڈوب کر مرے، جو دب کر مرے، جو اللہ کی راہ میں مارا جائے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۹۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ذکر فرمایا جو راستے میں جا رہا تھا۔ اس نے راستے میں کانٹے کی ڈالی دیکھی اور اسے ہٹا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول فرمایا اور اسے بخش دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہیدوں کی پانچ قسمیں بیان فرمائیں: طاعون سے مرنے والا، پیٹ کے عارضے سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، دب کر مرنے والا، اور اللہ کی راہ میں مارا جانے والا۔ اس حدیث میں دو اہم باتیں ہیں: راستے سے تکلیف دور کرنا ایک قابل قدر نیکی ہے، اور شہادت کا لفظ بعض مختلف موتوں کے لیے بھی آیا ہے۔ متن کے مطابق بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا اللہ کے ہاں پسندیدہ عمل ہے۔
- چھوٹی نیکی بھی اللہ کے ہاں بڑی قدر پا سکتی ہے۔
- حدیث میں شہیدوں کی پانچ قسمیں بیان کی گئی ہیں۔
- اللہ کی راہ میں مارا جانا بھی شہادت کی بیان کردہ قسموں میں شامل ہے۔
