صحیح مسلم حدیث ۴۹۶۷ - لمبے سفر کے بعد اچانک گھر نہ آنا
لمبے سفر کے بعد رات کو اچانک گھر آنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۹۶۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۶۷
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَطَالَ الرَّجُلُ الْغَيْبَةَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ طُرُوقًا " .
جابر بن عبداللہ روایت:
منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آدمی مدت سے سفر میں ہو تو اچانک رات کو اپنے گھر نہ آئے۔ (اور جو ایک دو روز سے غائب ہو تو مضائقہ نہیں)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۹۶۷ کا خلاصہ
یہ حدیث خاص طور پر اس شخص کے بارے میں ہے جو مدت تک سفر میں رہا ہو۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ جب آدمی مدت سے سفر میں ہو تو اچانک رات کو اپنے گھر نہ آئے۔ اس روایت میں “لمبے سفر کے بعد واپسی”، “رات کو اچانک گھر آنے کی ممانعت” اور “گھر واپسی کے آداب” مرکزی الفاظ ہیں۔ حدیث میں مدت کی غیر حاضری کا پہلو آیا ہے، اس لیے بات کو اسی دائرے میں سمجھنا چاہیے۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ واپسی کا وقت اور انداز گھر والوں کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔ گھر آنا صرف پہنچ جانا نہیں، بلکہ مناسب موقع اور اچھا طریقہ بھی معنی رکھتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لمبی غیر حاضری کے بعد رات کو اچانک گھر آنے سے منع کیا گیا ہے۔
- سفر سے واپسی میں گھر والوں کی کیفیت کا خیال رکھنا چاہیے۔
- حدیث کا تعلق خاص طور پر مدت تک سفر میں رہنے والے شخص سے ہے۔
- واپسی کا انداز بھی گھریلو ادب کا حصہ ہے۔
