صحیح مسلم حدیث ۴۹۶۵ - رات کو اچانک گھر نہ جائیں

رات کو اچانک گھر آنے کی حدیث: گھر والوں کو مہلت دیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۶۵

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَدِمَ أَحَدُكُمْ لَيْلًا ، فَلَا يَأْتِيَنَّ أَهْلَهُ طُرُوقًا حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ " .

سیدنا جابر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی رات کو آئے تو اپنے گھر میں گھسا نہ چلا آئے (بلکہ ٹھہرے) یہاں تک کہ پاکی کرے وہ عورت جس کا خاوند سفر میں تھا اور کنگھی کرے وہ عورت جس کے بال پریشان ہوں۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۹۶۵ کا خلاصہ

یہ حدیث سفر سے رات کو واپسی کے بارے میں واضح رہنمائی دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی رات کو آئے تو اپنے گھر میں گھسا نہ چلا آئے، یہاں تک کہ وہ عورت جس کا شوہر سفر میں تھا صفائی کر لے، اور جس کے بال بکھرے ہوں وہ کنگھی کر لے۔ اس حدیث میں “رات کو گھر آنے کی ممانعت”، “سفر سے واپسی کی حدیث” اور “گھر والوں کو تیاری کا موقع” جیسے موضوعات صاف طور پر موجود ہیں۔ یہاں مقصد گھر والوں کو اچانک پریشانی میں ڈالنا نہیں، بلکہ انہیں سنبھلنے اور تیار ہونے کی مہلت دینا ہے۔ حدیث میں جو الفاظ آئے ہیں، وہ گھریلو زندگی میں لحاظ، نرمی اور بہتر انداز کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رات کو سفر سے آنے پر اچانک گھر میں داخل نہ ہونا چاہیے۔
  • گھر والوں کو صفائی اور کنگھی کا موقع دینا چاہیے۔
  • واپسی میں گھر والوں کی حالت کا خیال رکھا گیا ہے۔
  • حدیث میں گھر کے اندر نرمی اور ادب کا واضح انداز ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں