صحیح مسلم حدیث ۴۹۶۴ - گھر والوں کا خیال رکھ کر واپسی
گھر واپسی کی حدیث: اہل خانہ کو تیاری کا موقع دینا
صحیح مسلم : ۴۹۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۶۴
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ ، فَقَالَ : " أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عِشَاءً كَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ " .
سیدنا جابر بن عبداللہ روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جہاد میں، جب مدینہ آئے تو ہم اپنے گھروں کو جانے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرو ہم رات کو جائیں گے تاکہ جو عورت سر پریشان ہے وہ کنگھی کرے اور جس کا خاوند غائب تھا وہ پاکی کرے۔“ (یعنی بال وغیرہ صاف کر لے)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۹۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں تھے۔ جب مدینہ آئے اور لوگ اپنے گھروں کو جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہرو، ہم رات کو یعنی عشاء کے وقت جائیں گے، تاکہ جس عورت کے بال بکھرے ہوں وہ کنگھی کر لے، اور جس کا شوہر غائب تھا وہ صفائی کر لے۔ اس روایت کا اصل موضوع “سفر سے واپسی”، “گھر والوں کا خیال” اور “رات کو گھر آنے کی حدیث” ہے۔ یہاں اچانک داخل ہونے کے بجائے گھر والوں کو تیاری کا موقع دینے کی بات ہے۔ حدیث کا انداز بہت عملی ہے: سفر سے واپس آتے وقت گھر والوں کے آرام، صفائی اور تیاری کا لحاظ کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر سے واپسی پر گھر والوں کو تیاری کا موقع دینا چاہیے۔
- اچانک گھر جانے کے بجائے مناسب وقت کا خیال رکھا گیا۔
- حدیث میں کنگھی اور صفائی جیسے گھریلو پہلو کا ذکر ہے۔
- گھر واپسی میں نرمی اور لحاظ کا انداز سامنے آتا ہے۔
