صحیح مسلم حدیث ۴۹۶۲ - سفر سے واپسی کا ادب
سفر سے واپسی کی حدیث: رات کو اچانک گھر نہ آنا
صحیح مسلم : ۴۹۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۶۲
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا وَكَانَ يَأْتِيهِمْ غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً " .
سیدنا انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے اپنے گھر میں رات کو نہ آتے بلکہ صبح یا شام کو آتے (تاکہ عورت کو آراستہ ہونے کا موقع ملے)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۹۶۲ کا خلاصہ
یہ حدیث سفر سے واپسی کے ادب کو بہت سادہ انداز میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے اپنے گھر رات کو نہ آتے، بلکہ صبح یا شام کو آتے تھے۔ اس روایت میں گھر آنے کے وقت کا خاص انداز بتایا گیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سفر سے واپسی میں بھی نرمی، ترتیب اور گھر والوں کی سہولت کا خیال رکھا جائے۔ اسی لیے “سفر سے واپسی کی حدیث”، “رات کو گھر آنے کی ممانعت” اور “گھر آنے کے آداب” اس حدیث کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔ حدیث میں صرف اتنا بیان ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے بجائے صبح یا شام تشریف لاتے تھے، اس لیے وضاحت بھی اسی بات تک محدود رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر سے واپسی میں گھر آنے کے وقت کا خیال رکھنا چاہیے۔
- رات کو اچانک گھر آنے سے بچنا بہتر بتایا گیا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل صبح یا شام گھر آنے کا تھا۔
- گھر والوں کے آرام اور تیاری کا لحاظ کرنا اچھا انداز ہے۔
