صحیح مسلم حدیث ۴۹۶۱ - سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے
سفر کی حدیث: کام پورا ہو تو گھر جلد واپس آئیں
صحیح مسلم : ۴۹۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۶۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، وَأَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ ، وَمَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : قُلْتُ لِمَالِكٍ : حَدَّثَكَ سُمَيٌّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ ، فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ " . قَالَ : نَعَمْ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے روکتا ہے تم کو سونے، کھانے اور پینے سے (یعنی وقت پر یہ چیزیں نہیں ملتیں اکثر تکلیف ہو جاتی ہے) تو جب کوئی تم میں سے اپنا کام سفر میں پورا کرے وہ جلد اپنے گھر کو چلا آئے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۹۶۱ کا خلاصہ
یہ حدیث سفر کے بارے میں ایک صاف اور عام فہم بات بتاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، کیونکہ سفر انسان کی نیند، کھانے اور پینے کے معمول کو روک دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں تکلیف، تھکن اور معمولات کی خرابی ایک عام بات ہے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ جب کوئی شخص سفر میں اپنا کام پورا کر لے تو بلا ضرورت مزید نہ ٹھہرے، بلکہ جلد اپنے گھر والوں کے پاس واپس آ جائے۔ اسی لیے “سفر کی حدیث”، “سفر کی مشقت” اور “گھر واپسی کی حدیث” اس روایت کے اہم موضوعات ہیں۔ یہ بات گھر والوں کے حق، آرام اور ذمہ داری کا بھی احساس دلاتی ہے، مگر حدیث کا حکم کام پورا ہونے کے بعد جلد واپسی پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں نیند، کھانے اور پینے کے معمول متاثر ہو سکتے ہیں۔
- ضرورت پوری ہونے کے بعد سفر کو بلا وجہ لمبا نہ کیا جائے۔
- گھر والوں کے پاس واپس آنا ایک قابل توجہ ذمہ داری ہے۔
- سفر کی مشقت کو سمجھتے ہوئے اپنے وقت کا بہتر استعمال کرنا چاہیے۔
