صحیح مسلم حدیث ۴۹۸۱ - شکار کے حلال اصول

شکار کی حدیث: بسم اللہ، کتا اور تیر کے صاف اصول

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۸۱

حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَال : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، فَإِنْ أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَأَدْرَكْتَهُ حَيًّا فَاذْبَحْهُ ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبًا غَيْرَهُ وَقَدْ قَتَلَ فَلَا تَأْكُلْ ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهُمَا قَتَلَهُ ، وَإِنْ رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، فَإِنْ غَابَ عَنْكَ يَوْمًا فَلَمْ تَجِدْ فِيهِ إِلَّا أَثَرَ سَهْمِكَ ، فَكُلْ إِنْ شِئْتَ وَإِنْ وَجَدْتَهُ غَرِيقًا فِي الْمَاءِ فَلَا تَأْكُلْ " .

عدی بن حاتم روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تو اپنا کتا چھوڑے تو اللہ کا نام لے پھر اگر وہ روک لے تیرے شکار کو اور تو اسے زندہ پائے تو ذبح کر اس کو اور جو مار ڈالے لیکن کھائے نہیں اس میں سے تو بھی کھا اس کو اور جو تیرے کتے کے ساتھ دوسرا کتا ملے اور جانور مارا گیا ہو تو مت کھا اس کو کیونکہ معلوم نہیں کس نے مارا اس کو اور جو تو تیر مارے تو اللہ تعالیٰ کا نام لے پھر اگر تیرا شکار (تیر کھا کر) ایک دن تک غائب رہے بعد اس کے تو اس میں سوائے اپنے تیر کے اور کسی مار کا نشان نہ پائے تو کھا اس کو اگر تیرا جی چاہے اور جو تو اس کو پانی میں ڈوبا ہوا پائے تو مت کھا۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۹۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں شکار کی حدیث کے بہت واضح اصول آتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ جب شکاری کتا چھوڑا جائے تو اللہ کا نام لیا جائے۔ اگر کتا شکار کو زندہ پکڑ لے تو اسے ذبح کیا جائے۔ اگر وہ شکار کو مار دے مگر خود نہ کھائے تو کھانا درست بتایا گیا۔ لیکن اگر ساتھ کوئی دوسرا کتا مل جائے اور شکار مر چکا ہو تو نہ کھایا جائے، کیونکہ معلوم نہیں کس کتے نے مارا۔ اسی طرح تیر سے شکار کرتے وقت بھی اللہ کا نام لینا ہے۔ اگر شکار بعد میں ملے اور صرف اپنے تیر کا نشان ہو تو کھا سکتے ہیں، مگر پانی میں ڈوبا ہوا ملے تو نہ کھایا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شکار کرتے وقت اللہ کا نام لینا ضروری ادب ہے۔
  • اگر شکار زندہ ملے تو اسے ذبح کیا جائے۔
  • جس شکار کے مرنے کی وجہ مشتبہ ہو، اسے کھانے سے رکنا چاہیے۔
  • شکاری کتے کے کھا لینے یا دوسرے کتے کے شامل ہونے سے حکم بدل جاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں