صحیح مسلم حدیث ۴۹۸۲ - تیر سے شکار کا حکم

تیر سے شکار کی حدیث: پانی میں گرے شکار کا حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۸۲

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ ، قَالَ : " إِذَا رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قَتَلَ فَكُلْ ، إِلَّا أَنْ تَجِدَهُ قَدْ وَقَعَ فِي مَاءٍ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي الْمَاءُ قَتَلَهُ أَوْ سَهْمُكَ " .

عدی بن حاتم روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا شکار کو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو تیر مارے تو اللہ تعالیٰ کا نام لے پھر اگر تو اس کو مرا ہوا پائے تو کھا اس کو مگر جس صورت میں وہ پانی میں پڑا ہو تو مت کھا۔ اس لیے کہ معلوم نہیں وہ ڈوب کر مرا یا تیرے تیر سے مرا۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۹۸۲ کا خلاصہ

یہ حدیث تیر سے شکار کے حکم کو آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تیر مارو تو اللہ تعالیٰ کا نام لو۔ اگر وہ شکار مرا ہوا مل جائے تو کھایا جا سکتا ہے۔ لیکن ایک خاص صورت بیان فرمائی گئی کہ اگر وہ شکار پانی میں پڑا ہو تو نہ کھاؤ۔ وجہ بھی صاف بتائی گئی کہ معلوم نہیں وہ تیر سے مرا یا پانی میں ڈوب کر مرا۔ اس سے شکار کے مسائل میں احتیاط کا سبق ملتا ہے۔ جہاں سبب صاف ہو وہاں اجازت ہے، اور جہاں وجہ مشتبہ ہو وہاں رکنا بہتر بتایا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تیر چلاتے وقت اللہ کا نام لینا چاہیے۔
  • حلال شکار کے لیے مرنے کی وجہ صاف ہونا اہم ہے۔
  • پانی میں پڑا شکار مشتبہ ہو تو کھانے سے بچنا چاہیے۔
  • دینی حکم میں اندازے کے بجائے واضح وجہ دیکھی جاتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں