صحیح مسلم حدیث ۴۹۸۳ - اہل کتاب کے برتن اور شکار

اہل کتاب کے برتن اور شکار کے حلال اصول

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۸۳

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ ، يَقُولُ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ وَأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي ، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ أَوْ بِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَخْبِرْنِي مَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنْ ذَلِكَ ؟ ، قَالَ : " أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا ، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا ثُمَّ كُلُوا فِيهَا ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا أَصَبْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ ، وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ ، وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ " .

ابوثعلبہ خشنی روایت:

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا، یا رسول اللہ! ہم اہل کتاب (یعنی یہود و نصاریٰ) کے ملک میں رہتے ہیں، ان کے برتنوں میں کھانا کھاتے ہیں اور ہمارا ملک شکار کا ملک ہے، تو میں شکار کرتا ہوں اپنی کمان سے اور شکار کرتا ہوں سکھائے ہوئے کتے سے، اور شکار کرتا ہوں اس کتے سے جو سکھایا نہیں گیا، تو بیان کیجئیے مجھ سے جو حلال ہو ان میں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے جو کہا میں اہل کتاب کے ملک میں ہوں ان کے برتنوں میں کھاتا ہوں تو اگر تم کو اور برتن مل سکیں تو مت کھاؤ ان کے برتنوں میں، دوسرے جو اور برتن نہ ملیں تو دھو لو ان کو پھر کھاؤ ان میں، اور جو تو نے ذکر کیا ہے کہ تم شکار کی زمین میں ہو۔ پس جس کو تیر پہنچے اور تو اس پر اللہ کا نام لے تو اسے کھا لے اور جو تو اپنے شکاری کتے سے شکار کرے تو اس پر اللہ کا نام لے اور کھا لے اور جو ایسے کتے کا شکار ہو جو شکاری نہ ہو اور تو اسے زندہ پا لے تو اسے ذبح کر پھر کھا لے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۹۸۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں دو عملی سوالوں کا جواب دیا گیا ہے: کھانے کے برتن اور شکار۔ سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں اور ان کے برتن استعمال ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر دوسرے برتن مل جائیں تو ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ، اور اگر نہ ملیں تو انہیں دھو کر کھاؤ۔ پھر شکار کے بارے میں فرمایا کہ کمان سے شکار کرو اور اللہ کا نام لو تو کھاؤ۔ سدھائے ہوئے کتے سے شکار کرو تو اللہ کا نام لو اور کھاؤ۔ لیکن جو کتا سدھایا ہوا نہ ہو، اس کا شکار اس وقت کھاؤ جب اسے زندہ پا کر ذبح کر سکو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ضرورت کے وقت اہل کتاب کے برتن دھو کر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
  • شکار میں اللہ کا نام لینا صاف طور پر بیان ہوا ہے۔
  • سدھائے ہوئے کتے کے شکار کا حکم غیر سدھائے کتے سے مختلف ہے۔
  • غیر سدھائے کتے کا شکار زندہ ملے تو ذبح کرنے کے بعد کھایا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں