صحیح مسلم حدیث ۴۹۸۴ - شکار کی روایت کا بیان
شکار کی روایت: کتے کے شکار کا مختصر ذکر
صحیح مسلم : ۴۹۸۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۸۴
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ كِلَاهُمَا ، عَنْ حَيْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ وَهْبٍ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ صَيْدَ الْقَوْسِ .
اس سند کے ساتھ یہ حدیث ابنِ مبارک کی مذکورہ حدیث کی طرح منقول ہے سوائے اس کے کہ اس روایت میں کمان کے ساتھ شکار کرنے کا ذکر نہیں ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۹۸۴ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو دوبارہ بیان کرتی ہے، مگر ایک فرق کے ساتھ: اس روایت میں کمان کے ساتھ شکار کرنے کا ذکر نہیں آیا۔ اس طرح طالب علم کو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ کبھی ایک ہی مضمون مختلف سندوں سے آتا ہے، اور کسی روایت میں کچھ الفاظ کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں۔ یہاں اصل توجہ شکار کے حکم پر ہے، خاص طور پر وہ باتیں جو اہل کتاب کے برتن اور کتے کے شکار سے متعلق ہیں۔ متن ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ حدیث پڑھتے وقت الفاظ پر دھیان دینا چاہیے۔ جس روایت میں جو بات موجود ہو، اسی کو اسی حد تک بیان کرنا چاہیے، اس سے زیادہ بات نہیں بڑھانی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے الفاظ کو احتیاط سے پڑھنا چاہیے۔
- ایک روایت میں جو ذکر نہ ہو، اسے اسی روایت کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔
- شکار کے احکام میں سند اور متن دونوں کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
- دینی بات بیان کرتے وقت الفاظ کی حد کا خیال رکھنا چاہیے۔
