صحیح مسلم حدیث ۴۹۸۵ - گم شدہ شکار کا حکم
گم شدہ شکار کی حدیث: بدبو آنے سے پہلے کا حکم
صحیح مسلم : ۴۹۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۸۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَغَابَ عَنْكَ فَأَدْرَكْتَهُ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ " .
ابوثعلبہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو تیر مارے پھر شکار غائب ہو جائے بعد اس کے ملے تو کھا اس کو جب تک بدبودار نہ ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۹۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک عام شکاری صورت کا حکم بتایا گیا ہے۔ آدمی تیر چلاتا ہے، شکار کو تیر لگتا ہے، پھر وہ نظر سے غائب ہو جاتا ہے۔ بعد میں جب وہ شکار ملتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسے کھایا جائے یا نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تیر مارا، پھر شکار غائب ہوا، پھر مل گیا، تو اسے کھاؤ جب تک وہ بدبودار نہ ہو۔ اس حدیث میں بات مختصر ہے، مگر فائدہ صاف ہے۔ شکار کے ملنے کے بعد اس کی حالت دیکھی جائے گی۔ اگر وہ خراب اور بدبودار نہیں ہوا تو اجازت دی گئی۔ یہاں حلال شکار کے ساتھ کھانے کی پاکیزگی اور جسمانی حالت کا خیال بھی ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تیر لگنے کے بعد گم ہونے والا شکار مل جائے تو اس کی حالت دیکھی جائے۔
- بدبودار یا خراب شکار کھانے سے بچنا چاہیے۔
- شکار کے حکم میں صرف مل جانا کافی نہیں، اس کی کیفیت بھی دیکھی جاتی ہے۔
- حدیث کھانے میں احتیاط اور صفائی کا خیال سکھاتی ہے۔
