صحیح مسلم حدیث ۴۹۸۶ - تین دن بعد ملنے والا شکار
تین دن بعد ملنے والے شکار کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۹۸۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۸۶
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فِي الَّذِي يُدْرِكُ صَيْدَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ " .
ابوثعلبہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جو اپنا شکار تین روز کے بعد پائے فرمایا: ”وہ کھائے اس کو اگر سڑ نہ گیا ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۹۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں اس شخص کا ذکر ہے جو اپنا شکار تین روز کے بعد پاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اسے کھا سکتا ہے اگر سڑ نہ گیا ہو۔ یہ حکم بہت سادہ زبان میں ایک اہم بات سمجھاتا ہے: شکار کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت اس کی موجودہ حالت دیکھی جائے۔ اگر گوشت خراب ہو چکا ہو تو اسے چھوڑ دیا جائے۔ اگر خراب نہ ہوا ہو تو اجازت بیان ہوئی ہے۔ حدیث میں کوئی لمبی شرطیں نہیں لگائی گئیں، بلکہ صرف سڑنے یا نہ سڑنے کا معیار سامنے آیا۔ اس سے کھانے کے معاملے میں احتیاط بھی آتی ہے اور غیر ضروری سختی سے بچنے کا پہلو بھی نظر آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تین دن بعد ملنے والے شکار کی حالت دیکھی جائے۔
- سڑا ہوا شکار کھانے سے بچنا چاہیے۔
- حکم میں شکار کے خراب ہونے یا نہ ہونے کو اہم رکھا گیا ہے۔
- کھانے کے معاملے میں احتیاط اور سہولت دونوں کا پہلو موجود ہے۔
