صحیح مسلم حدیث ۵۰۲۷ - نہ کھاتا ہوں نہ حرام کہتا ہوں

گوہ کا گوشت: نہ کھانا اور حرام نہ کہنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۲۷

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ يَحْيَي بْنُ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ ، فَقَالَ : " لَسْتُ بِآكِلِهِ وَلَا مُحَرِّمِهِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا گوہ کے گوشت کے بارے میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں اس کو کھاتا ہوں نہ حرام کہتا ہوں۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۰۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع گوہ کا گوشت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام کہتا ہوں۔ اس جملے میں بڑی صاف رہنمائی اس جملے میں بڑی صاف رہ ہے۔ کسی چیز کو ذاتی طور پر نہ کھانا ایک بات ہے، اور اسے حرام کہنا دوسری بات ہے۔ اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پسند یا عادت کو حرام کے حکم کے برابر نہیں بنایا۔ جو لوگ گوہ کھانا، ضب کا گوشت، یا گوہ حلال ہے یا نہیں تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ حدیث بنیادی جواب دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گوہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو صاف جواب دیا گیا۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خود نہ کھانے کا ذکر کیا۔
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار نہیں دیا۔
  • ذاتی ناپسند کو حرام کہنا درست نہیں سمجھا جاتا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں