صحیح مسلم حدیث ۵۰۲۸ - گوہ کھانے کے سوال کا مختصر جواب

گوہ کھانا: حدیث کا مختصر اور صاف جواب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۲۸

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ ، فَقَالَ : " لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ " .

ابن عمر روایت:

ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گوہ کھانے کو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں اس کو کھاتا ہوں نہ حرام کہتا ہوں۔“

صحیح مسلم حدیث ۵۰۲۸ کا خلاصہ

اس روایت میں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کھانے کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام کہتا ہوں۔ یہ الفاظ مختصر ہیں مگر بات کو واضح کر دیتے ہیں۔ گوہ کا گوشت یا ضب کا گوشت کے بارے میں اصل جواب یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی خوراک نہیں بنایا، مگر حرام بھی نہیں کہا۔ اس حدیث میں کوئی اضافی شرط یا لمبی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے وضاحت بھی اسی کے اندر رہنی چاہیے۔ یہ روایت سکھاتی ہے کہ دین میں حلال و حرام کے الفاظ سوچ سمجھ کر استعمال کیے جاتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گوہ کھانے کے بارے میں براہ راست سوال ہوا۔
  • جواب میں ذاتی نہ کھانے اور حرام نہ کہنے کا فرق بتایا گیا۔
  • حکم بیان کرتے وقت الفاظ کی احتیاط ضروری ہے۔
  • روایت کے الفاظ سے زیادہ بات منسوب نہیں کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں