صحیح مسلم حدیث ۵۰۴۱ - گوہ کھانے پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا احتیاط والا عمل
گوہ کھانے کی حدیث: حلال جانور میں احتیاط کا نبوی انداز
صحیح مسلم : ۵۰۴۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۴۱
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ ، وَقَالَ : " لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنَ الْقُرُونِ الَّتِي مُسِخَتْ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوہ لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا اس کے کھانے سے اور فرمایا: ”مجھ کو معلوم نہیں ہے یہ ان قوموں میں سے ہے جو مسخ ہو گئیں۔“ (گویا عذاب کی صورت ہے لیکن یہ گوہ جانور ہے اور جو مسخ ہوئے تھے عذاب سے وہ مر گئے)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۰۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں گوہ کھانے کی حدیث کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس گوہ لایا گیا، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے کھانے سے انکار فرمایا۔ وجہ یہ بیان فرمائی کہ مجھے معلوم نہیں، شاید یہ ان قوموں میں سے ہو جو مسخ کی گئیں۔ اس سے ہمیں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے یہاں حرام کا صاف حکم نہیں دیا، بلکہ اپنی طرف سے احتیاط اختیار فرمائی۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ بعض چیزوں کے بارے میں انسان کے دل میں کراہت یا احتیاط ہو سکتی ہے، مگر ہر ناپسند چیز کو حرام کہنا درست نہیں۔ گوہ کا مسئلہ اسی فرق کو سمجھاتا ہے: ایک طرف آپ صلى الله عليه وسلم کا نہ کھانا ہے، دوسری طرف متن میں حرمت کا واضح لفظ نہیں آیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے گوہ کھانے سے انکار فرمایا، مگر اس روایت میں حرام کہنے کا لفظ نہیں آیا۔
- جس چیز کے بارے میں شبہ ہو، اس میں احتیاط اختیار کرنا ایک سنجیدہ عمل ہے۔
- ہر ناپسند چیز کو فوراً حرام نہیں کہا جاتا جب تک صاف دلیل نہ ہو۔
- دین میں بات کرتے وقت متن کے الفاظ کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
