حدیث ۵۰۴۰

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۴۰

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، قَالَ : دَعَانَا عَرُوسٌ بِالْمَدِينَةِ ، فَقَرَّبَ إِلَيْنَا ثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا ، فَآكِلٌ وَتَارِكٌ ، فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنَ الْغَدِ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَكْثَرَ الْقَوْمُ حَوْلَهُ حَتَّى ، قَالَ بَعْضُهُمْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا آكُلُهُ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ " ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بِئْسَ مَا قُلْتُمْ مَا بُعِثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَعِنْدَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَامْرَأَةٌ أُخْرَى إِذْ قُرِّبَ إِلَيْهِمْ خُوَانٌ عَلَيْهِ لَحْمٌ ، فَلَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَ ، قَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ : إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ ، فَكَفَّ يَدَهُ ، وَقَالَ : " هَذَا لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ قَطُّ " ، وَقَالَ لَهُمْ : كُلُوا ، فَأَكَلَ مِنْهُ الْفَضْلُ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَالْمَرْأَةُ ، وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ : لَا آكُلُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَيْءٌ يَأْكُلُ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

‏‏‏‏ یزید بن اصم سے روایت ہے، ہم کو ایک دولھا نے بلایا مدینہ میں تو تیرہ گوہ ہمارے سامنے رکھے۔ بعض نے کھائی بعض نے نہ کھائی پھر میں دوسرے دن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملا اور ان سے یہ حال بیان کیا، لوگوں نے ان کے سامنے بہت باتیں کیں، بعض نے یہاں تک کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں اس کو کھاتا ہوں، نہ منع کرتا ہوں، نہ حرام کہتا ہوں۔“ سیدنا بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تم نے برا کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اسی لئے بھیجے گئے کہ ہر ایک چیز کو حلال کہیں یا حرام۔ (چنانچہ قرآن مجید میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت بھی آتی ہے) «وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ» ‏‏‏‏ (۷-الأعراف:۱۵۷) بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز میمونہ کے پاس تھے اور فضل بن عباس اور خالد بن الولید بھی تھے، ایک عورت اور بھی تھی، اتنے میں ان لوگوں کے سامنے ایک خوان لایا گیا۔ اس میں گوشت بھی تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کا قصد کیا تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہہ دیا وہ گوہ کا گوشت ہے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا: ”اس گوشت کو میں نے کبھی نہیں کھایا۔“ اور ان لوگوں سے فرمایا: ”تم کھاؤ۔“ تو فضل اور خالد بن الولید اور اس عورت نے وہ گوشت کھایا، اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں تو وہی چیز کھاؤں گی جس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھائیں گے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں