صحیح مسلم حدیث ۵۰۳۹ - دسترخوان پر گوہ کھائی گئی
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے دسترخوان پر گوہ کا گوشت
صحیح مسلم : ۵۰۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۳۹
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ : أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : أَهْدَتْ خَالَتِي أَمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا ، " فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَالْأَقِطِ وَتَرَكَ الضَّبَّ تَقَذُّرًا وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا ، مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ابن عباس روایت:
میری خالہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھی، پنیر اور گوہ بھیجی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر کھایا اور گوہ نفرت کر کے چھوڑ دیا اور گوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کھایا گیا اور جو حرام ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر نہ کھایا جاتا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۰۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ان کی خالہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھی، پنیر اور گوہ بھیجی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر کھایا، اور گوہ کو طبیعت نہ لگنے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ پھر روایت میں صاف کہا گیا کہ گوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کھائی گئی، اور اگر وہ حرام ہوتی تو آپ کے دسترخوان پر نہ کھائی جاتی۔ یہ حدیث گوہ حلال ہے یا حرام کے سوال میں بہت صاف دلیل بن جاتی ہے، مگر بات اسی متن تک رکھی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہیں کھایا، مگر اسے دسترخوان پر کھایا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر کھایا۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ کو طبیعت نہ لگنے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔
- گوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کھائی گئی۔
- روایت میں حرام نہ ہونے کی بات واضح انداز سے بیان ہوئی ہے۔
