حدیث ۵۰۳۵
صحیح مسلم : ۵۰۳۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۳۵
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ جميعا ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ حَرْمَلَةُ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَيْفُ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ ، فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ قَلَّمَا يُقَدَّمُ إِلَيْهِ طَعَامٌ حَتَّى يُحَدَّثَ بِهِ وَيُسَمَّى لَهُ ، فَأَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَى الضَّبِّ ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسْوَةِ الْحُضُورِ : أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَدَّمْتُنَّ لَهُ قُلْنَ هُوَ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ : أَحَرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ " ، قَالَ خَالِدٌ : فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ يَنْظُرُ فَلَمْ يَنْهَنِي .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے خالد بن الولید رضی اللہ عنہ جن کو سیف اللہ کہتے تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بی بی تھیں اور خالہ تھیں خالد اور ابن عباس کی۔ ان کے پاس گوہ دیکھا تھا بھنا ہوا جو لائیں تھیں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی بہن حفیدہ بنت حارث نجد سے، پھر وہ گوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا گیا اور کم ایسا ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی کھانا رکھا جائے اور بیان نہ کیا جائے اور نام نہ لیا جائے (کہ وہ کیا کھانا ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا گوہ کی طرف ایک عورت عورتوں میں سے جو موجود تھیں بول اٹھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دو جو آپ کے سامنے لائیں تھیں وہ کہنے لگیں یہ گوہ ہے یا رسول اللہ! یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا گوہ حرام ہے؟ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں حرام نہیں ہے لیکن یہ میرے ملک میں نہیں ہوتا، اس وجہ سے مجھ کو نفرت ہوتی ہے۔“ خالد نے کہا: پھر میں نے اس کو کھینچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے مجھ کو کھاتے ہوئے منع نہیں کیا۔
