صحیح مسلم حدیث ۵۰۶۰ - جاندار کو نشانہ بنانے سے منع کی مزید روایت
جاندار کو نشانہ نہ بنانے کی حدیث: اسی حکم کی تائیدی روایت
صحیح مسلم : ۵۰۶۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۶۰
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
شعبہ روایت:
شعبہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۰۶۰ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کی ایک اور نقل ہے کہ کسی جاندار کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ متن میں بتایا گیا ہے کہ شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل ہوئی۔ پچھلی روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا صاف فرمان آیا کہ کسی ایسی چیز کو جس میں روح ہو، نشانہ مت بناؤ۔ اس روایت میں نئی تفصیل نہیں، مگر وہی حکم دوسرے طریق سے سامنے آتا ہے۔ اس لیے اسے جانوروں پر رحم اور جاندار کو ہدف بنانے سے بچنے کے باب میں سمجھا جاتا ہے۔ عام زبان میں بات یہ ہے کہ جاندار کو بے وجہ تکلیف دینا، اسے تیر اندازی یا نشانہ بازی کا سامان بنانا، اس حدیث کے مزاج کے خلاف ہے۔ یہاں اصل بات یہی ہے کہ روح والی چیز کو غرض نہ بنایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت جاندار کو نشانہ بنانے سے منع کے حکم کی تائید کرتی ہے۔
- حدیث کے مختلف طرق ایک ہی بات کو محفوظ رکھتے ہیں۔
- روح والی چیز کو مشق یا کھیل کا ہدف نہیں بنانا چاہیے۔
- جانوروں کے ساتھ رحم والا رویہ دینی تعلیمات سے جڑا ہے۔
