صحیح مسلم حدیث ۵۰۸۹ - ذبح کے وقت بسم اللہ و اللہ اکبر

ذبح کے وقت بسم اللہ و اللہ اکبر کہنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۸۹

وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، قَالَ : قُلْتُ : آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح قربانی کی۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کرتے وقت بسم اللہ و اللہ اکبر کہا۔

صحیح مسلم حدیث ۵۰۸۹ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کا ذکر نقل ہوا ہے۔ سیدنا شعبہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا قتادہ نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کا وہی مضمون آیا ہے، اور اس میں ذبح کے وقت بسم اللہ و اللہ اکبر کہنے کا پہلو نمایاں ہے۔ اس حدیث سے ایک عام مسلمان یہ سمجھ سکتا ہے کہ قربانی صرف رسم نہیں، بلکہ اللہ کے نام کے ساتھ کی جانے والی عبادت ہے۔ اس میں الفاظ بھی اہم ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی پیروی بھی اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ذبح کے وقت بسم اللہ و اللہ اکبر کہنا روایت میں مذکور ہے۔
  • حدیث کے راوی نے سماع کی تصدیق بھی بیان کی۔
  • قربانی کو اللہ کے نام کے ساتھ انجام دینا چاہیے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو نقل کرنے میں صحابہ اور تابعین نے احتیاط کی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں