صحیح مسلم حدیث ۵۰۹۰ - قربانی کے وقت بسم اللہ واللہ اکبر
قربانی کے وقت پڑھنے کے الفاظ: بسم اللہ واللہ اکبر
صحیح مسلم : ۵۰۹۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۹۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : وَيَقُولُ : بِاسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ .
انس روایت:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہوئے نقل کیا سوائے اس کے کہ اس حدیث میں «سَمّٰی» اور «کَبَّرَ» کی جگہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کرتے وقت «بسم الله والله اكبر» کہا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۰۹۰ کا خلاصہ
یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کرنے کے الفاظ کو خاص طور پر بیان کرتی ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسی مضمون کی روایت نقل ہوئی، مگر اس میں یہ الفاظ آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذبح کرتے وقت فرماتے تھے: بسم اللہ واللہ اکبر۔ اس سے قربانی کے عمل میں اللہ کے نام اور تکبیر کا تعلق صاف معلوم ہوتا ہے۔ عام زبان میں سمجھیں تو جانور ذبح کرنے سے پہلے یا ذبح کے وقت یہ یاد رکھا جاتا ہے کہ یہ کام اللہ کے نام پر ہے۔ حدیث میں الفاظ مختصر ہیں، مگر مقصد واضح ہے: قربانی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی پیروی اور اللہ کا نام لینا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں بسم اللہ واللہ اکبر کے الفاظ صراحت سے آئے ہیں۔
- قربانی کے عمل کو اللہ کے نام کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
- مختصر الفاظ بھی عبادت کے معنی کو واضح کرتے ہیں۔
- قربانی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے الفاظ کو یاد رکھنا چاہیے۔
