صحیح مسلم حدیث ۵۰۹۵ - بانس سے ذبح کرنے کا سوال

بانس سے ذبح کرنے کا سوال: چھری نہ ہونے کی صورت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۹۵

وحَدَّثَنِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ الْحَدِيثَ إِلَى آخِرِهِ بِتَمَامِهِ ، وَقَالَ فِيهِ وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ .

سعید بن مسروق روایت:

سیدنا سعید بن مسروق رضی اللہ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح آخر تک پوری حدیث روایت کی گئی ہے اور اس حدیث میں ہے کہ ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں تو کیا ہم بانس سے ذبح کر لیں۔؟

صحیح مسلم حدیث ۵۰۹۵ کا خلاصہ

یہ روایت اسی سند کے ساتھ مکمل حدیث کو نقل کرتی ہے، اور اس میں خاص طور پر یہ الفاظ آئے ہیں کہ ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، کیا ہم بانس سے ذبح کر لیں؟ اس سے پتا چلتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم عملی ضرورت کے وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حکم پوچھتے تھے۔ حدیث کا تعلق ذبح کے آلے، خون بہانے، اور اللہ کا نام لینے کے مضمون سے ہے۔ اس میں اصل سوال یہ ہے کہ جب عام چھری موجود نہ ہو تو کیا کیا جائے۔ روایت کو اسی مضمون کے ساتھ سمجھنا چاہیے، اور دانت و ناخن کے استثنا والی بات متعلقہ روایت میں آ چکی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • چھری نہ ہونے پر بانس سے ذبح کا سوال روایت میں آیا ہے۔
  • عملی ضرورت میں حکم پوچھنا صحابہ کا طریقہ تھا۔
  • ذبح کے آلے کا مسئلہ حدیث میں واضح طور پر زیر بحث آیا۔
  • قربانی یا ذبح کے معاملے میں اپنی طرف سے فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں