صحیح مسلم حدیث ۵۰۹۴ - نرکل کے چھلکے سے ذبح کا سوال
چھری نہ ہو تو ذبح کا سوال: نرکل کے چھلکے اور بھڑکے اونٹ کا واقعہ
صحیح مسلم : ۵۰۹۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۹۴
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ ، ثُمَّ حَدَّثَنِيهِ عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى فَنُذَكِّي بِاللِّيطِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ ، وَقَالَ : فَنَدَّ عَلَيْنَا بَعِيرٌ مِنْهَا فَرَمَيْنَاهُ بِالنَّبْلِ حَتَّى وَهَصْنَاهُ .
رافع بن خدیج روایت:
ہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم کل دشمن سے ملنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں تو ہم ذبح کریں نرکل کے چھلکوں سے۔ پھر بیان کیا حدیث کو قصہ سمیت اور کہا کہ ایک اونٹ اونٹوں میں سے بھڑک نکلا ہم نے اس کو تیروں سے مارا یہاں تک کہ گرا دیا اس کو۔
صحیح مسلم حدیث ۵۰۹۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں صحابہ نے ایک عملی سوال کیا کہ کل دشمن سے مقابلہ ہے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، تو کیا نرکل کے چھلکوں سے ذبح کریں؟ پھر اسی واقعے کے ساتھ حدیث بیان ہوئی۔ اس روایت میں یہ بھی آیا کہ ایک اونٹ بھڑک نکلا تو اسے تیر مار کر گرا دیا گیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ صحابہ مشکل حالت میں بھی ذبح کے حکم کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے تھے۔ اصل بات وہی ہے جو متعلقہ روایت میں آئی: ذبح میں خون بہنا اور اللہ کا نام لینا بیان ہوا، جبکہ دانت اور ناخن کو مستثنیٰ کیا گیا۔ اس حدیث میں عملی حالات کے اندر شرعی رہنمائی لینے کا انداز ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چھری نہ ہونے کی صورت میں صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔
- نرکل کے چھلکے سے ذبح کا سوال اسی واقعے میں آیا ہے۔
- بھڑکے ہوئے اونٹ کو تیر سے روکنے کا واقعہ بیان ہوا۔
- مشکل حالت میں بھی حکم معلوم کر کے عمل کرنا چاہیے۔
