صحیح مسلم حدیث ۵۱۱۵ - پہلے منع، پھر اجازت کا بیان
پہلے منع کی گئی باتوں میں اجازت والی روایت
صحیح مسلم : ۵۱۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۱۱۵
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي سِنَانٍ .
ابن بریدہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں منع کیا تھا۔“ اور پھر ابوسنان کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔
صحیح مسلم حدیث ۵۱۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں منع کیا تھا، پھر راوی نے ابو سنان والی حدیث کے معنی کے مطابق بات ذکر کی۔ اس مختصر متن میں مکمل الفاظ نہیں دہرائے گئے، مگر اشارہ اسی مضمون کی طرف ہے جس میں قبروں کی زیارت، قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے اور نبیذ کے برتنوں کا بیان آتا ہے، جبکہ نشہ آور چیز سے منع کیا گیا ہے۔ اس روایت کی خاص بات یہ ہے کہ یہ پچھلی حدیث کے معنی کی تائید کرتی ہے۔ عام قاری کے لیے سبق یہ ہے کہ جب حدیث میں “بمعنی” کہا جائے تو سمجھا جاتا ہے کہ الفاظ مختصر ہیں مگر مضمون پہلے بیان شدہ روایت جیسا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلی حدیث کے معنی کو مختصر انداز میں نقل کرتی ہے۔
- متن میں “منع کیا تھا” کے بعد اجازت والے مضمون کی طرف اشارہ ہے۔
- مختصر روایات کو اسی متعلقہ مکمل روایت کے ساتھ سمجھا جاتا ہے۔
