صحیح مسلم حدیث ۵۱۴۶ - کھجور اور کشمش الگ بھگوئیں
نبیذ کا حکم: کھجور اور کشمش کو ایک ساتھ نہ بھگوئیں
صحیح مسلم : ۵۱۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۱۴۶
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " نَهَى أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا ، وَنَهَى أَنْ يُنْبَذَ الرُّطَبُ وَالْبُسْرُ جَمِيعًا " .
جابر بن عبداللہ انصاری روایت:
منع کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور انگور کو یا پکی اور گدر کھجور کو ملا کر بھگونے سے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۱۴۶ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور انگور یعنی کشمش کو ایک ساتھ بھگونے سے منع فرمایا۔ اسی طرح پکی کھجور اور گدر کھجور کو ملا کر بھگونے سے بھی منع فرمایا۔ اس حدیث میں نبیذ کے بارے میں بات بڑی سیدھی ہے: کچھ چیزیں الگ الگ رہیں، انہیں ایک ساتھ نہ ملایا جائے۔ یہاں مقصد کسی لمبی بحث میں جانا نہیں، بلکہ حدیث کے الفاظ کو سمجھنا ہے۔ کشمش اور کھجور، یا رطب اور بسر کو ملا کر نبیذ بنانا منع کیا گیا۔ اس لیے جو شخص نبیذ کی حدیث تلاش کرتا ہے، اسے یہ بات خاص طور پر یاد رکھنی چاہیے کہ ملاوٹ ہی اصل موضوع ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھجور اور کشمش کو ایک ساتھ نبیذ بنانے سے منع کیا گیا۔
- پکی اور گدر کھجور کو اکٹھا بھگونے کی ممانعت آئی ہے۔
- حدیث میں چیزوں کو الگ رکھنے کی عملی ہدایت دی گئی ہے۔
- مشروب بنانے میں نبوی ہدایت کے مطابق احتیاط کرنی چاہیے۔
