صحیح مسلم حدیث ۵۱۹۰ - ٹھلیا کی نبیذ پر سوال

ٹھلیا کی نبیذ کے بارے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۱۹۰

وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، قَالَ : فَقَالَ : قَدْ زَعَمُوا ذَاكَ ، قُلْتُ : أَنَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَدْ زَعَمُوا ذَاكَ " .

ثابت روایت:

میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ٹھلیا کے نبیذ سے؟ انہوں نے کہا: لوگ ایسا کہتے ہیں۔ میں نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اس سے، انہوں نے کہا: لوگ ایسا کہتے ہیں۔

صحیح مسلم حدیث ۵۱۹۰ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا ثابت رحمہ اللہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھلیا کی نبیذ سے منع فرمایا؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: لوگ ایسا کہتے ہیں۔ ثابت رحمہ اللہ نے دوبارہ پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی اس سے منع فرمایا؟ انہوں نے پھر یہی کہا کہ لوگ ایسا کہتے ہیں۔ یہ حدیث مختصر ہے اور اس میں جواب کا انداز بھی خاص ہے۔ یہاں ہمیں اپنی طرف سے قطعی نتیجہ بڑھا کر نہیں کہنا چاہیے، بلکہ اتنا ہی بیان کرنا چاہیے کہ سوال ٹھلیا کی نبیذ کے بارے میں تھا اور جواب میں “لوگ ایسا کہتے ہیں” آیا۔ نبیذ الجر، ٹھلیا کی نبیذ اور ابن عمر سے سوال جیسے الفاظ اس روایت سے جڑے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی بات میں سوال کر کے بات واضح کرنے کی کوشش روایت میں موجود ہے۔
  • جواب کے الفاظ کو ویسا ہی نقل کرنا چاہیے جیسے آئے ہیں۔
  • ٹھلیا کی نبیذ اس روایت کا اصل موضوع ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں