صحیح مسلم حدیث ۵۲۰۴ - پتھر کے گھڑے میں نبیذ
پتھر کے گھڑے میں نبیذ بنانے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۲۰۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۲۰۴
(حديث موقوف) قَالَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ ، وَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرِّ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ " ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُنْتَبَذُ لَهُ فِيهِ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ .
ابوالزبیر نے کہا: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھلیا سے اور لاکھی سے اور چوبین برتن سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی برتن نہ ملتا نبیذ بنانے کے لئے نبیذ بنایا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے گھڑے میں پتھر کے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۲۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو باتیں ایک ساتھ آتی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھلیا، لاکھی اور چوبین برتن سے منع فرمایا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب کوئی مناسب برتن نہ ملتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پتھر کے گھڑے میں نبیذ بنایا جاتا۔ اس لیے اس روایت کو نبیذ کے برتن اور پتھر کے گھڑے کی حدیث کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔ متن میں بات بہت محدود ہے، اس لیے اسی حد میں سمجھنا چاہیے۔ یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ منع کیے گئے برتنوں کے ساتھ ساتھ ایک ایسے برتن کا ذکر بھی آیا جو استعمال کیا گیا، یعنی پتھر کا گھڑا۔ یہ روایت ہمیں حکم اور عمل دونوں کو دھیان سے پڑھنے کا سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں ٹھلیا، لاکھی اور چوبین برتن سے منع کا ذکر ہے۔
- جب مناسب برتن نہ ملتا تو پتھر کے گھڑے میں نبیذ بنایا جاتا۔
- حدیث کو اسی مضمون تک محدود رکھ کر سمجھنا چاہیے جو متن میں آیا ہے۔
