صحیح مسلم حدیث ۵۲۶۲ - گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا نام
گھر میں داخل ہونے اور کھانے سے پہلے اللہ کا ذکر
صحیح مسلم : ۵۲۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۲۶۲
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ ، فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ ، قَالَ الشَّيْطَانُ : لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ ، وَإِذَا دَخَلَ ، فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ ، قَالَ الشَّيْطَانُ : أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ ، وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ ، قَالَ : أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنے گھر میں جاتا ہے گھر میں جاتے وقت اور کھاتے وقت اللہ عزوجل کا نام لیتا ہے تو شیطان (اپنے رفیقوں اور دوسرے تابعداروں سے) کہتا ہے: نہ تمہارے رہنے کا ٹھکانا ہے نہ کھانا ہے اور جب گھر میں جاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے: تمہیں رہنے کا ٹھکانا تو مل گیا اور جب کھاتے وقت اللہ کا نام لیتا تو شیطان کہتا ہے: تمہارے رہنے کا بھی ٹھکانا ہوا اور کھانا بھی ملا۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۲۶۲ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت سادہ انداز میں بتاتی ہے کہ مسلمان کی روزمرہ زندگی اللہ کے ذکر سے جڑی ہونی چاہیے۔ جب آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ تمہارے لیے نہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور نہ کھانا۔ اس کے برعکس، اگر گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لیا جائے تو شیطان کہتا ہے کہ رہنے کی جگہ مل گئی۔ اور اگر کھانے کے وقت بھی اللہ کا نام نہ لیا جائے تو وہ کہتا ہے کہ رہنا بھی ملا اور کھانا بھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بسم اللہ پڑھنا صرف زبان کی عادت نہیں، بلکہ گھر کے ماحول اور کھانے کے ادب سے جڑا ہوا عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا نام لینا چاہیے۔
- کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا ذکر کرنا کھانے کا ادب ہے۔
- غفلت سے شیطان کو گھر اور کھانے میں حصہ ملنے کا موقع بتایا گیا ہے۔
- روزمرہ کاموں کو اللہ کی یاد کے ساتھ شروع کرنا بہتر ہے۔
