صحیح مسلم حدیث ۵۲۶۹ - بسم اللہ، دائیں ہاتھ اور اپنے پاس سے کھانا
کھانے کے آداب: بسم اللہ، دائیں ہاتھ اور اپنے سامنے سے کھانا
صحیح مسلم : ۵۲۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۲۶۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، سَمِعَهُ مِنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : كُنْتُ فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ ، فَقَالَ لِي : " يَا غُلَامُ سَمِّ اللَّهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ " .
عمر بن ابی سلمہ روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھا (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کی ماں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تھا) اور میرا ہاتھ پیالہ میں سب طرف گھوم رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لڑکے! اللہ کا نام لے اور داہنے ہاتھ سے کھا اور جو پاس ہو ادھر سے کھا“۔
صحیح مسلم حدیث ۵۲۶۹ کا خلاصہ
یہ حدیث بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے بہت آسان سبق رکھتی ہے۔ سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھے اور ان کا ہاتھ پیالے میں ادھر ادھر جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت بھرے انداز میں فرمایا: اے لڑکے! اللہ کا نام لو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے پاس سے کھاؤ۔ اس حدیث میں کھانے کے تین بنیادی آداب جمع ہیں۔ پہلے بسم اللہ، پھر دائیں ہاتھ کا استعمال، پھر دوسروں کے حصے میں ہاتھ نہ بڑھانا۔ انداز بھی تربیتی ہے؛ بچے کو ڈانٹنے کے بجائے صاف اور مختصر بات سمجھائی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا نام لینا چاہیے۔
- کھانا دائیں ہاتھ سے کھانا چاہیے۔
- مشترک برتن میں اپنے سامنے والی جگہ سے کھانا چاہیے۔
- بچوں کو کھانے کے آداب نرمی اور صاف بات سے سکھائے جا سکتے ہیں۔
