صحیح مسلم حدیث ۵۲۶۸ - دائیں ہاتھ سے کھانے میں غرور نہ کرو

دائیں ہاتھ سے کھانے کا حکم اور تکبر سے بچنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۲۶۸

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا أَكَلَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِمَالِهِ ، فَقَالَ : " كُلْ بِيَمِينِكَ " ، قَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : " لَا اسْتَطَعْتَ مَا مَنَعَهُ إِلَّا الْكِبْرُ " ، قَالَ : فَمَا رَفَعَهَا إِلَى فِيهِ .

سیدنا سلمہ بن الاکوع روایت:

ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بائیں ہاتھ سے کھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”داہنے ہاتھ سے کھاؤ۔“ وہ بولا: مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کرے تجھ سے نہ ہو سکے۔“ اور اس نے غرور کی راہ سے ایسا کیا تھا، وہ اس ہاتھ کو منہ تک نہ اٹھا سکا۔

صحیح مسلم حدیث ۵۲۶۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بائیں ہاتھ سے کھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔ اس نے کہا کہ مجھ سے نہیں ہو سکتا، حالانکہ روایت میں صاف بتایا گیا کہ اسے غرور نے روکا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کرے تجھ سے نہ ہو سکے، اور وہ اپنا ہاتھ منہ تک نہ اٹھا سکا۔ اس حدیث کا اصل سبق صرف دائیں ہاتھ سے کھانے کا نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے سامنے تکبر نہ کرنے کا بھی ہے۔ اگر کسی کو واقعی عذر ہو تو بات الگ ہے، مگر غرور کی وجہ سے صحیح بات نہ ماننا بہت خطرناک رویہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دائیں ہاتھ سے کھانے کی ہدایت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت کے مقابلے میں غرور نہیں کرنا چاہیے۔
  • غلط بات پر اڑ جانا انسان کے لیے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
  • عذر اور تکبر میں فرق ہے؛ حدیث میں اس شخص کو غرور نے روکا تھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں