صحیح مسلم حدیث ۵۳۲۸ - مہمان کی دعا اور کھانے کے آداب
مہمان کی دعا کی حدیث: میزبان کے لیے برکت، مغفرت اور رحمت
صحیح مسلم : ۵۳۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۲۸
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي ، قَالَ : فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ ، فَكَانَ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ وَيَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى ، قَالَ شُعْبَةُ : هُوَ ظَنِّي وَهُوَ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِلْقَاءُ النَّوَى بَيْنَ الْإِصْبَعَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ ، فَشَرِبَهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ ، قَالَ ، فَقَالَ أَبِي : وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا ، فَقَالَ : " بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ " .
عبداللہ بن بسر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے باپ کے پاس اترے ہم نے کھانا پیش کیا اور وطبہ ایک کھانا ہے (جو کھجور، پنیر اور گھی سے مل کر بنتا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا پھر سوکھی کھجوریں آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کھاتے تھے اور گٹھلیاں دونوں انگلیوں کے بیچ میں رکھتے جاتے کلمہ اور بیچ کی انگلی کے درمیان۔شعبہ نے کہا: مجھے یہی خیال ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس حدیث میں یہی ہے گٹھلیاں دونوں انگلیوں میں ڈالنا۔ (غرض یہ ہے کہ گٹھلیاں کھجور میں نہیں ملاتے تھے جدا رکھتے تھے) پھر پینے کے لئے کچھ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا۔ بعد اس کے داہنی طرف جو بیٹھا تھا اس کو دیا۔ پھر میرے باپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانور کی بھاگ تھامی اور عرض کی دعا کیجیے ہمارے لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ برکت دے ان کی روزی میں اور بخش دے ان کو اور رحم کر ان پر۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۳۲۸ کا خلاصہ
یہ روایت مہمان کی دعا اور کھانے کے آداب کو بہت سادہ انداز میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے والد کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ کھانا پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا، پھر کھجوریں آئیں۔ آپ کھجور کھاتے اور گٹھلیاں الگ رکھتے۔ پھر پینے کے لیے کچھ آیا، آپ نے پیا اور اپنے دائیں طرف بیٹھے شخص کو دے دیا۔ آخر میں میزبان نے دعا کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ ان کے رزق میں برکت دے، انہیں بخش دے اور ان پر رحم فرمائے۔ یہ میزبان کے لیے دعا کی حدیث، مہمان نوازی اور دائیں طرف دینے کے ادب کو جمع کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- میزبان کے لیے برکت، مغفرت اور رحمت کی دعا کرنا اچھا عمل ہے۔
- پینے کی چیز دائیں طرف والے کو دینا اس روایت میں آیا ہے۔
- کھانے کے دوران صفائی اور ترتیب کا خیال رکھا گیا۔
