صحیح مسلم حدیث ۵۳۲۹ - کھجور کی گٹھلی اور آداب طعام

آداب طعام کی حدیث: کھجور کی گٹھلی الگ رکھنے کا ادب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۲۹

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَمَّادٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَشُكَّا فِي إِلْقَاءِ النَّوَى بَيْنَ الْإِصْبَعَيْنِ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۵۳۲۹ کا خلاصہ

یہ حدیث پچھلی روایت کے مضمون کو مزید واضح کرتی ہے۔ اس میں بیان ہے کہ راویوں نے کھجور کی گٹھلیوں کو انگلیوں کے درمیان رکھنے میں شک نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کے دوران چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی صفائی اور ترتیب کا خیال رکھا جاتا تھا۔ یہ آداب طعام کی حدیث ہمیں یہ نہیں کہتی کہ ہر وقت ایک ہی طریقہ لازم ہے، بلکہ اس خاص واقعے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ کھجور کی گٹھلی الگ رکھنا، کھانے کو صاف رکھنا، اور مجلس میں سلیقہ اختیار کرنا اس روایت کا صاف سبق ہے۔ اس میں میزبان کی عزت اور کھانے کے ادب کا نرم انداز بھی محسوس ہوتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کھانے میں صفائی اور سلیقہ اختیار کرنا اچھا ہے۔
  • کھجور کی گٹھلی کو کھانے میں ملانے کے بجائے الگ رکھا گیا۔
  • راویوں نے اس خاص عمل کو احتیاط سے نقل کیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں