صحیح مسلم حدیث ۵۳۳۸ - سات کھجوریں اور زہر سے حفاظت
سات کھجوریں کھانے کی حدیث: مدینہ کی کھجور اور حفاظت
صحیح مسلم : ۵۳۳۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۳۸
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِمَّا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حِينَ يُصْبِحُ لَمْ يَضُرَّهُ سُمٌّ حَتَّى يُمْسِيَ " .
سعد بن ابی وقاص روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سات کھجوریں مدینہ کے دونوں میدانوں کے اندر کی کھا لے صبح کے وقت اس کو شام تک کوئی زہر نقصان نہ کرے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۳۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت مدینہ کے دونوں میدانوں کے اندر کی سات کھجوریں کھا لے، اسے شام تک کوئی زہر نقصان نہیں کرے گا۔ اس روایت کا موضوع سات کھجوریں کھانے کی حدیث اور مدینہ کی کھجور کی فضیلت ہے۔ یہاں شرطیں متن میں موجود ہیں: صبح کا وقت، سات کھجوریں، اور مدینہ کے دونوں میدانوں کے اندر کی کھجور۔ اس لیے بات کو عام دعوے کی صورت میں نہیں بڑھانا چاہیے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ بعض خاص چیزوں کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص فضیلت بیان فرمائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں صبح کے وقت سات کھجوریں کھانے کا ذکر ہے۔
- حدیث میں مدینہ کے دونوں میدانوں کے اندر کی کھجور کی بات آئی ہے۔
- فضیلت کو اسی حد تک بیان کرنا چاہیے جس حد تک متن میں آیا ہے۔
