صحیح مسلم حدیث ۵۳۴۰ - سات عجوہ کھجوروں کی فضیلت
سات عجوہ کھجوروں کی حدیث: روایت کا مختصر مضمون
صحیح مسلم : ۵۳۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۴۰
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ . ح وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ كِلَاهُمَا ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، وَلَا يَقُولَانِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۳۴۰ کا خلاصہ
اس روایت میں ترجمہ وہی ہے جو پچھلی حدیث میں گزرا۔ مضمون یہ ہے کہ صبح سات عجوہ کھجوریں کھانے کے بارے میں خاص فضیلت بیان ہوئی ہے، اور پچھلی روایت میں زہر اور جادو سے اسی دن نقصان نہ ہونے کا ذکر آیا ہے۔ چونکہ یہ روایت مختصر ہے اور اسی مضمون کی تائید کرتی ہے، اس لیے شرح بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے۔ سات عجوہ کھجوروں کی حدیث، عجوہ کھجور کی فضیلت، اور صبح عجوہ کھانا جیسے الفاظ اس موضوع سے جڑے ہیں۔ اس روایت سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ حدیث کے مختلف طرق ایک ہی مضمون کو مضبوط انداز میں نقل کرتے ہیں، مگر بات وہی کہی جائے جو متن میں موجود ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت سات عجوہ کھجوروں کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
- فضیلت کو حدیث کے الفاظ کے مطابق بیان کرنا چاہیے۔
- صبح کے وقت عجوہ کھانے کا ذکر اس مضمون میں خاص طور پر آیا ہے۔
