صحیح مسلم حدیث ۵۴۱ - اچھی طرح وضو اور فرض نماز
اچھی طرح وضو کر کے فرض نماز ادا کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۴۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۱
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ : فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ .
ابواسامہ روایت:
ابواسامہ کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ اچھی طرح وضو کرنے کے بعد فرض نماز ادا کرے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۴۱ کا خلاصہ
اس روایت کا اصل موضوع وضو اور فرض نماز ہے۔ متن میں ابواسامہ کی روایت کے الفاظ نقل ہوئے ہیں کہ آدمی اچھی طرح وضو کرے، پھر فرض نماز ادا کرے۔ یہاں بات بہت مختصر ہے، مگر معنی صاف ہے کہ نماز سے پہلے وضو کو جلدی جلدی نمٹانے والا کام نہیں سمجھنا چاہیے۔ اچھی طرح وضو کرنا نماز کی تیاری ہے۔ یہ حدیث وضو کی فضیلت کے بڑے مضمون کا ایک حصہ ہے، مگر اس خاص روایت میں زور صرف اس بات پر ہے کہ وضو درست اور اچھا ہو، پھر فرض نماز پڑھی جائے۔ اس لیے وضو کی حدیث تلاش کرنے والے کے لیے یہ روایت نماز سے پہلے پاکیزگی اور اہتمام کا سادہ سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فرض نماز سے پہلے وضو کو اچھی طرح کرنا چاہیے۔
- نماز کی تیاری میں جسمانی پاکیزگی کا واضح مقام ہے۔
- مختصر روایت بھی عبادت کے اہم ادب کی طرف توجہ دلاتی ہے۔
