صحیح مسلم حدیث ۵۴۸۱ - نبی صلى الله عليه وسلم کی چاندی کی مہر

نبی صلى الله عليه وسلم کی چاندی کی مہر والی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۸۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْعَجَمِ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ الْعَجَمَ لَا يَقْبَلُونَ إِلَّا كِتَابًا عَلَيْهِ خَاتَمٌ ، فَاصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ ، قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عجم کے بادشاہ کو لکھنا چاہا (عجم کہتے ہیں سوائے عرب کے تمام اور لوگوں کو) لوگوں نے کہا: عجم کے لوگ کوئی خط نہیں لیتے جب تک اس پر مہر نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہر بنوائی چاندی کی۔ گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔

صحیح مسلم حدیث ۵۴۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع نبی صلى الله عليه وسلم کی مہر ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عجم کے بادشاہ کو خط لکھنے کا ارادہ فرمایا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ عجم کے لوگ ایسا خط قبول نہیں کرتے جس پر مہر نہ ہو۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے چاندی کی مہر بنوائی۔ راوی کہتے ہیں کہ گویا وہ آج بھی آپ صلى الله عليه وسلم کے ہاتھ میں اس کی سفیدی دیکھ رہے ہیں۔ یہ حدیث نبی صلى الله عليه وسلم کی انگوٹھی، چاندی کی مہر، خط پر مہر اور بادشاہوں کو خط بھیجنے کے بارے میں اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے خط بھیجنے کے معاملے میں وہاں کے معروف طریقے کو اختیار فرمایا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بادشاہوں کو خط بھیجنے کے لیے مہر بنوائی۔
  • مہر چاندی کی تھی، جیسا کہ حدیث میں صاف بیان ہے۔
  • دینی پیغام پہنچاتے وقت مخاطب کے قابل قبول طریقے کا لحاظ کیا گیا۔
  • سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس مہر کی سفیدی کو خاص طور پر یاد رکھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں