صحیح مسلم حدیث ۵۴۸۲ - محمد رسول اللہ نقش والی انگوٹھی
محمد رسول اللہ نقش والی انگوٹھی کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۴۸۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۸۲
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَر وَالنَّجَاشِيِّ ، فَقِيلَ : إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ ، فَصَاغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا حَلْقَتُهُ فِضَّةً ، وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ (بادشاہ ایران) اور قیصر (بادشاہ روم) اور نجاشی (بادشاہ حبش) کو لکھنا چاہا۔ لوگوں نے عرض کیا، یہ بادشاہ کوئی خط نہ لیں گے جب تک اس پر مہر نہ ہو۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشتری بنوائی جس کا چھلہ چاندی کا تھا اور اس میں نقش تھا ”محمد رسول اللہ“۔
صحیح مسلم حدیث ۵۴۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کی انگوٹھی اور مہر کا ذکر ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کسریٰ، قیصر اور نجاشی کو خط لکھنے کا ارادہ فرمایا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یہ بادشاہ بغیر مہر والا خط قبول نہیں کرتے۔ پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی جس کا چھلہ چاندی کا تھا، اور اس میں محمد رسول اللہ نقش تھا۔ یہ حدیث ان لوگوں کے لیے بہت تلاش کی جاتی ہے جو نبی صلى الله عليه وسلم کی انگوٹھی، محمد رسول اللہ نقش، چاندی کی انگوٹھی اور خط کی مہر کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ حدیث کا پیغام سیدھا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے خط کے لیے ایک باقاعدہ مہر اختیار فرمائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے بادشاہوں کو خط بھیجنے کے لیے مہر والی انگوٹھی بنوائی۔
- انگوٹھی کا چھلہ چاندی کا تھا۔
- اس انگوٹھی پر محمد رسول اللہ نقش تھا۔
- خط بھیجنے میں اس دور کے قبول شدہ طریقے کا خیال رکھا گیا۔
