صحیح مسلم حدیث ۵۵۰۵ - مسجد میں آرام
مسجد میں آرام کرنے کی حدیث: چت لیٹنے کا بیان
صحیح مسلم : ۵۵۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۰۵
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كُلُّهُمْ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قالا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قالا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّبِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
زہری سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح نقل کی گئی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۰۵ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ ایک پاؤں دوسرے پر تھا۔ چونکہ ترجمہ میں صاف کہا گیا ہے کہ مطلب وہی ہے جو اوپر گزرا، اس لیے اس کی شرح بھی اسی حد تک رہے گی۔ مسجد میں لیٹنے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ آرام کا انداز اگر ادب اور ستر کی حفاظت کے ساتھ ہو تو اسے صرف شکل دیکھ کر غلط نہیں کہا جا سکتا۔ اس کے ساتھ پچھلی روایات میں جو ممانعت آئی ہے وہ ایسے انداز سے متعلق ہے جہاں کپڑے کی کمی یا بیٹھنے لیٹنے کی صورت سے ستر کھلنے کا ڈر ہو۔ اس لیے اصل سبق احتیاط، حیا اور مسجد کے ادب کا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی مضمون کی روایت مختلف سند سے بھی آ سکتی ہے۔
- مسجد میں آرام کرتے ہوئے وقار اور ادب ضروری ہے۔
- ستر کھلنے کا ڈر ہو تو انداز بدل لینا چاہیے۔
- حدیث کو اسی کے الفاظ اور قریب روایات کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
