صحیح مسلم حدیث ۵۵۰۹ - کالا خضاب
کالا خضاب کی حدیث: سفیدی بدلیں مگر سیاہی سے بچیں
صحیح مسلم : ۵۵۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۰۹
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : " أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اتنا زیادہ ہے کہ بچو سیاہی سے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۰۹ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو مزید واضح کرتی ہے۔ ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کے سر اور داڑھی کی سفیدی کا ذکر ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کسی چیز سے بدل دو اور سیاہی سے بچو۔ کالا خضاب کی حدیث میں دو باتیں صاف ہیں: سفید بال بدلنے کی ہدایت، اور سیاہ رنگ سے اجتناب۔ اس سے آگے سخت الفاظ یا بڑے دعوے متن میں نہیں، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا بہتر ہے۔ عام فہم طور پر یہ سمجھیں کہ خضاب کی حدیث انسان کو زیب و زینت کی اجازت کے ساتھ حد بھی بتاتی ہے۔ سفید بالوں کے لیے کوئی مناسب رنگ اختیار کیا جائے، لیکن اس روایت کے الفاظ کے مطابق سیاہی سے بچا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفید بال بدلنے کا حکم دوبارہ بیان ہوا ہے۔
- اس روایت میں سیاہ رنگ سے بچنے کی صریح ہدایت آئی ہے۔
- خضاب میں اجازت کے ساتھ حد بھی بتائی گئی ہے۔
- حدیث کے الفاظ سے زیادہ بات بڑھا کر نہیں کہنی چاہیے۔
