صحیح مسلم حدیث ۵۵۱۰ - خضاب
خضاب کی حدیث: سفید بالوں کو رنگنے کی ترغیب
صحیح مسلم : ۵۵۱۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۱۰
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ خضاب نہیں کرتے تو تم ان کا خلاف کرو۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۵۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ خضاب نہیں کرتے، تم ان کے خلاف کرو۔ خضاب کی حدیث میں اصل پیغام یہ ہے کہ سفید بالوں کے معاملے میں مسلمان اپنی دینی رہنمائی کے مطابق عمل کرے۔ یہاں خاص طور پر یہ ذکر ہے کہ اہل کتاب خضاب نہیں کرتے تھے، اس لیے مسلمانوں کو ان کے خلاف کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس حدیث میں کسی خاص رنگ کا نام نہیں آیا، اس لیے رنگ کے بارے میں تفصیل دوسری روایات سے دیکھی جاتی ہے۔ اس متن کی بنیاد پر اتنا کہنا درست ہے کہ سفید بالوں کے معاملے میں خضاب کرنا ایک نبوی ہدایت کے طور پر آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خضاب کے ذریعے سفید بال بدلنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
- مسلمان کو اپنی دینی رہنمائی کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
- اس روایت میں کسی خاص رنگ کا نام نہیں آیا۔
- خضاب کے رنگ کی تفصیل کے لیے دوسری روایات کو دیکھا جاتا ہے۔
