صحیح مسلم حدیث ۵۵۱۵ - فرشتے
کتا یا تصویر والے گھر میں فرشتوں کا داخل نہ ہونا
صحیح مسلم : ۵۵۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵۱۵
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قالا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵۱۵ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی اسی معنی میں آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ چونکہ ترجمہ میں بتایا گیا ہے کہ مطلب وہی ہے جو اوپر گزرا، اس لیے یہاں بھی اصل بات مختصر مگر اہم ہے۔ کتا یا تصویر والے گھر کی حدیث ہمیں اپنے گھریلو ماحول پر غور کرنے کا موقع دیتی ہے۔ گھر صرف رہنے کی جگہ نہیں، بلکہ عبادت، ذکر اور پاکیزہ زندگی کا مرکز بھی ہوتا ہے۔ اس روایت کے الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ کچھ چیزیں فرشتوں کے داخل ہونے سے مانع بنتی ہیں۔ اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ گھر کے بارے میں وہی احتیاط کرے جو حدیث سے ثابت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلی حدیث کے معنی کو مضبوط کرتی ہے۔
- گھر میں کتا یا تصویر ہونے کا ذکر فرشتوں کے داخل نہ ہونے کے ساتھ آیا ہے۔
- گھر کے ماحول کو حدیث کی ہدایت کے مطابق رکھنا چاہیے۔
- مضمون مختصر ہے مگر روزمرہ زندگی سے بہت متعلق ہے۔
