صحیح بخاری حدیث ۳۲۲۵ - کتے اور تصویر والے گھر کا حکم

کتے اور جاندار کی تصویر والے گھر میں فرشتوں کا نہ آنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۲۵

حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ ، وَلَا صُورَةُ تَمَاثِيلَ " .

ابن عباس روایت:

میں نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتے ہوں اور اس میں بھی نہیں جس میں جاندار کی تصویر ہو۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۲۲۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مختصر مگر صاف بات فرمائی۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو، اور نہ اس گھر میں جس میں جاندار کی تصویر ہو۔ یہاں اصل بات گھر کے اندر ایسے اسباب سے بچنے کی ہے جن کے بارے میں حدیث میں فرشتوں کے نہ آنے کا ذکر آیا ہے۔ اس لیے کتا اور تصویر والی حدیث کو سمجھتے ہوئے متن کے الفاظ ہی سامنے رکھنے چاہئیں۔ حدیث میں خاص طور پر کتے اور جاندار کی تصویر کا ذکر ہے، اس سے گھر کے دینی ماحول اور احتیاط کا سبق ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں کتے والے گھر میں فرشتوں کے نہ آنے کا ذکر ہے۔
  • جاندار کی تصویر والے گھر کے بارے میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔
  • گھر کے ماحول کو ایسے امور سے بچانا چاہیے جن سے فرشتوں کی آمد رکنے کا ذکر آیا ہے۔
  • حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، اس لیے بات کو اسی حد میں سمجھنا بہتر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں