صحیح بخاری حدیث ۳۲۲۶ - تصویر اور کپڑے کے نقش کا فرق

تصویر، پردہ اور کپڑے کے نقش سے متعلق حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۲۶

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ ، وَمَعَ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عُبَيْدُ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ الَّذِي كَانَ فِي حَجْرِ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمَا زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ ، قَالَ : بُسْرٌ فَمَرِضَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ فَعُدْنَاهُ ، فَإِذَا نَحْنُ فِي بَيْتِهِ بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ أَلَمْ يُحَدِّثْنَا فِي التَّصَاوِيرِ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَالَ : إِلَّا رَقْمٌ فِي ثَوْبٍ أَلَا سَمِعْتَهُ ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ : بَلَى قَدْ ذَكَرَهُ " .

زید بن خالد جہنی روایت:

´ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا ہم کو عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے بکیر بن اشج نے بیان کیا، ان سے بسر بن سعید نے بیان کیا اور ان سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا` اور (راوی حدیث) بسر بن سعید کے ساتھ عبیداللہ خولانی بھی روایت حدیث میں شریک ہیں، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی پرورش میں تھے۔ ان دونوں سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں (جاندار کی) تصویر ہو۔“بسر نے بیان کیا کہ پھر زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیمار پڑے اور ہم ان کی عیادت کے لیے ان کے گھر گئے۔ گھر میں ایک پردہ پڑا ہوا تھا اور اس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا، کیا انہوں نے ہم سے تصویروں کے متعلق ایک حدیث نہیں بیان کی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ زید رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ کپڑے پر اگر نقش و نگار ہوں (جاندار کی تصویر نہ ہو) تو وہ اس حکم سے الگ ہے۔ کیا آپ نے حدیث کا یہ حصہ نہیں سنا تھا؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں! زید رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۲۲۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل ہوا کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو۔ پھر روایت میں ایک واقعہ بھی آیا کہ حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو لوگ ان کی عیادت کے لیے گئے۔ وہاں گھر میں ایک پردہ تھا جس پر تصویریں بنی تھیں۔ اس پر راوی نے سوال کیا کہ انہوں نے تو تصویروں والی حدیث بیان کی تھی۔ جواب میں عبیداللہ خولانی نے بتایا کہ زید رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ کپڑے پر نقش ہو تو وہ اس حکم سے الگ ہے۔ یہاں بات کو احتیاط سے سمجھنا چاہیے: حدیث کا اصل حکم تصویر کے بارے میں ہے، اور روایت میں کپڑے کے نقش کی وضاحت بھی نقل ہوئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تصویر والے گھر میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا حکم نقل ہوا ہے۔
  • روایت میں کپڑے کے نقش کے بارے میں ایک وضاحت بھی آئی ہے۔
  • حدیث سنتے وقت پوری بات یاد رکھنا ضروری ہے۔
  • دینی بات میں سوال کر کے وضاحت لینا درست طریقہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں